
میں۔۔۔’’
،میں تھوڑا الگ ہوں
صبح آنکھ کھلتی ہے تو
‘روشنی۔۔۔ تیز۔۔۔ بہت تیز
،مجھے نہیں پسند، آنکھیں بند، تیز روشنی نہیں پسند
،گھر میں کیسی آوازیں ہیں
،آوازیں۔۔۔ بہت زور سے
،میں ڈر جاتا ہوں
،امی بھوک لگی ہے، مجھے کھانا دو
، کھانا، کھانا، کھانا، کھانا
‘کھانا، کھانا دو
میری شرٹ نیلی کیوں نہیں؟
کھلونوں کی لائن کس نے توڑدی؟
بلاک ایک لائن میں کیوں نہیں؟
،مجھے نہیں پسند الگ
سب ایک طرح ہو
،پہلے جیسا ہو
،مجھے وہی ترتیب چاہئے، بار بار، وہی وہی
یہ نئے لوگ کون ہیں؟
امی، ابو آپ کہاں ہو؟
،نہیں، میں نہیں ملتا
‘میں ہاتھ نہیں ملاتا
‘نہیں مجھے نہیں پسند
:اتنی تیز روشنی
‘آوازیں
مجھے نہیں پسند
سب ایک جیسا ہو بس امی ابو آپ کہاں ہو ؟
مندرجہ بالا سطور کسی نو آموز آزاد شاعر کی مشقِ سخن کا بے ربط شاخسانہ نہیں بلکہ یہ تو اْن احساسات نے لفظی پیرہن اوڑھا ہےجو آٹزم سپیکٹرم عارضےکا شکار ایک بچہ تقریبا روز محسوس کرتا ہے۔ امریکن سائیکیایٹرک ایسوسی ایشن کے رہنما کتابچے (ڈی۔ایس۔ایم 5، مطبوعہ 2022)کے مطابق آٹزم سپیکٹرم مختلف ذہنی عوارض پہ مشتمل ایک ایسی اعصابی حالت ہے جس میں سماجی روابط اور بات چیت میں مستقل کمی واقع ہوتی ہے، اسِ میں متاثرہ بچہ یا شخص بار بار ایک ہی جیسے رویئے ، دلچسپی اور سرگرمیاں دوہرانے لگتا ہے۔ یہ علامات بچپن میں ہی ظاہر ہوجاتی ہیں اور عمر کے ساتھ بڑھتی جاتی ہیں یہاں تک کہ متاثرہ شخص کی سماجی، پیشہ ورانہ سرگرمیاں و دیگر شعبہ ہائے زندگی متاثر ہونے لگتے ہیں۔
اِسی لئے آٹزم سپیکٹرم عارضے کے بارے میں آگاہی و شعور پھیلانے کے لئے اقوام متحدہ نے ہر سال 2 اپریل کو آٹزم کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا۔
لفظ ’آٹزم‘ بنیادی طور پر یونانی زبان کے لفظ ’آٹوز‘ سے اخذ کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے ’خود‘۔ آٹزم کی اصطلاح سب سے پہلے1911میں ایک سوئس ماہر نفسیات یوگن بلولرنے اپنے کچھ شیزوفرینیا کے مریضوں کے خود میں ہی مگن رہنے کی کیفیت کے لئے استعمال کی۔ اس نے اس کیفیت کو ’آٹسٹک سوچ‘ کا نام دیا۔ 1943 میں امریکی ماہر نفسیات لیو کینر نے بچوں کی تنہائی پسندی کے لئے یہ اصطلاح استعمال کی۔ اس دوران ان کے ایک ہم عصر ماہر نفسیات ہینس ایسرجر نے ایسے بچوں پہ تحقیق کی تو انہیں معلوم ہوا کہ بات چیت میں کمی اور سماجی فاصلوں کے برعکس ان بچوں میں ذہانت موجود تھی۔ تب انہوں نے اپنے نام کی مناسبت سے اس کو ’ایسرجر سینڈروم‘ کا نام دیا۔
اس کے بعد 1980 میں آٹزم کو شیزوفرینیا سے ہٹ کر باقاعدہ ایک الگ عارضے کے طور پر ازنوسر متعارف کروایا گیا۔ بعد آزاں آٹزم کے لئے سپیکٹرم کی اصطلاح استعمال کی گئی اور ایسرجر سینڈروم و دیگر ذیلی عوارض کو آٹزم سپیکٹرم عارضہ کا حصہ بنادیا گیا۔
عالمی ادارہِ صحت کی 2021 میں کی گئی تحقیق کے مطابق دنیا میں ہر 127 میں سے ایک بچہ آٹزم سپیکٹرم عارضے کا شکار تھا۔ آٹزم ایک سپیکٹرم عارضہ ہے یعنی جس طرح دھنک میں مختلف رنگوں کا امتزاج ہوتا ہے، اِسی طرح آٹسٹک بچوں میں وسیع پیمانے پرمتنوع علامات، شدتیں، صلاحیتیں، مہارتیں اور معذوریاں پائی جاتی ہیں۔ اِس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آٹزم چند ایسے عوارض کا مجموعہ ہے جو پہلے الگ الگ عارضے کے طور پہ تشخیص کیے جاتے تھے اور اب ان کو آٹزم سپیکٹرم عارضہ کی ذیلی اقسام کے طور پہ سمجھا جاتا ہے۔ مزید برآں امریکن سائیکیایٹرک ایسوسی ایشن نے آٹزم سپیکٹرم عارضے کی شدت اور مدد کی ضرورت کے لحاظ سے درجہ اول، دوئم اور سوئم میں درجہ بندی کی ہے۔ آیئے ہم اِس درجہ بندی اور پھر ذیلی اقسام کے بارے میں جانتے کی کوشش کرتے ہیں۔
درجہ اول شدت کے لحاظ سے سب سے ہلکا درجہ ہے۔ اِس میں متاثرہ بچہ یا فرد بات چیت کرنے اور سماجی روابط قائم رکھنےمیں ہلکی سی دشواری محسوس کرتا ہے البتہ روٹین کی تبدیلی کچھ زیادہ قابل قبول نہیں ہوتی۔ روز مرہ کے معمولات سرانجام دینے کے لئے معمولی سی مدد کی ضرورت پڑتی ہے۔ درجہ دوئم میں علامات کی شدت کچھ زیادہ ہوتی ہے، بات چیت میں واضح دشواری کا سامنا ہوتا ہے اور کار ہائے زیست کی انجام دہی کے لئے خاصی مدد کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ درجہ سوئم سب سے شدید درجہ ہے جس میں بات چیت، سماجی روابط اور روزمرہ کے کام کرنے میں بہت زیادہ مشکل کا سامنا ہوتا ہے۔اس درجہ کے متاثرہ بچے ےا فرد کو ایک مستقل مدد گار کی ضرورت ہوتی ہے۔
مندرجہ ذیل عوارض کو آٹزم سپیکٹرم عارضے میں شمار کیا جاتا ہے
ایسپرجر سنڈروم: اِس ذیلی عارضے میں شدت کم ہوتی ہے۔ متاثرہ بچوں کو بات چیت میں بہت زیادہ مسلہ نہیں ہوتا بلکہ اکثر اوقات اس عارضے کو ’اعلی کارکردگی والا آٹزم ‘ بھی کیا جاتا ہے کیونکہ وہ ذہنی اعتبار سے باقی ذیلی عوارض میں نسبتا بہتر ہوتے ہیں۔ ٹرینیٹی کالج ڈبلن میں چائلڈ اینڈ ایڈولیسنٹ سائیکاٹری سے وابستہ محقق مائیکل فٹزجیرالڈ نے اپنی تحقیق میں ایسپرجر سنڈروم سے متاثرہ نابغہ روزگار ہستیوں بشمول البرٹ آئن سٹائن اور نیوٹن کی تخلیقی صلاحیتوں کا جائزہ لیا ہے۔ اِس ضمن میں ان کی ایک قابلِ مطالعہ کتاب ’جینیئس جینز’ مطبوعہ ۲۰۰۷ ہے۔ دورِ جدید میں دنیا کے امیر ترین انسان ایلون مسک بھی ایسپرجر سنڈروم سے متاثر رہ چکے ہیں۔
آٹسٹک ڈس آرڈر: یہ کلاسیکل آٹزم عارضہ ہے اور جب بھی آٹرم کی اصطلاح بالعموم استعمال ہوتی ہے تو اس سے مراد یہی عارضہ ہوتا ہے۔ یہ پیدائش کے ابتدائی چند ماہ میں ہی ظاہر ہوجاتا ہے اور تین سال کی عمر تک اس کی علامات واضح ہوجاتی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ بڑھتا اور مستقل ہوتا جاتا ہے۔اس میں بات چیت، سماجی روابط، روز مرہ کے کاموں میں مشکل پیش آتی ہے۔
. چائلڈہُڈ ڈس اِنٹیگریٹو ڈس آرڈر: اِس ذیلی عارضے میں ۲ سال کی عمر نارمل گزارنے کے بعد علامات ظاہر ہوتی ہیں اور اِس کی ایک اہم علامت یہ ہے کہ بچہ پہلے سے سیکھی ہوئی چیزیں بھولنے لگ جاتا ہے۔ اِس عارضے کی شرح نسبتا کم ہے۔
پروویسیو ڈیولپمنٹل ڈس آرڈر: ایسے متاثرہ بچے جن میں آٹزم سپیکٹرم عارضے کی علامات تو مجود ہوں مگر وہ باقی کسی ذیلی قسم میں نہ آتے ہوں، ان کو عارضے میں رکھا جاتا ہے۔
آیئے اب آٹزم سپیکٹرم عارضے کی علامات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔
آٹزم سپیکٹرم عارضہ کی بنیادی علامات ابتدائی 6 سے 12 ماہ میں ہی ظاہر ہوجاتی ہیں (جیسے آنکھوں کے سامنے کھلونے یا ہاتھ کی حرکت پہ بھی توجہ کا مرکوز نہ ہونا) اور تین سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے اتنی واضح ہوجاتی ہیں کہ بچہ اپنے ہم جولیوں میں الگ لگنے لگتا ہے۔ ایسے بچے آنکھیں ملانے سے گریز کرتے ہیں۔ ان کو اکیلے ہی کھیلنے کی عادت ہوتی ہے۔ یہ اکثر اپنے نام سے پکارے جانے پر بھی متوجہ نہیں ہوتے۔ چند مانوس افراد بالخصوص ماں، باپ، بہن، بھائی یا کسی پسندیدہ ٹیچر کے علاوہ کسی سے زیادہ گھلتے ملتے نہیں اور ان کے علاوہ کسی کا اِن کو چھونا، گلے لگانا یا حتی کہ ہاتھ ملانا انہیں بالکل پسند نہیں آتا۔
ایسے بچے اپنے جذبات کا صحیح طرح سے اظہار نہیں کرپاتے اور نا ہی ان میں سامنے والے کے جذبات، آواز کے اتار چڑھاو اور چہرے کے تاثرات کو سمجھنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ آٹسٹک بچوں میں بولنے کا عمل اکثر دیر سے شروع ہوتا ہے۔ انہیں بات چیت اور سماجی روابط قائم رکھنے میں واضح دقت کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ بعض اوقات بات چیت شروع نہیں کرپاتے۔اِن کے بولنے طریقہ کچھ منفرد ہوتا ہے مثلا کبھی روبوٹ کی طرح مشینی انداز میں بولتے ہیں تو کبھی گانا گانے کے انداز میں اپنے الفاظ کی ادایئگی کرتے ہیں۔ ایک ہی عمل یا الفاظ بار بار دہراتے رہتے ہیں۔ کبھی کبھار یہ بچے پہلے سے سیکھی ہوئی چیزیں بھی بھولنے لگتے ہیں۔ انہیں ایک ہی جیسی ترتیب میں چیزیں اچھی لگتی ہیں، جیسے کھلونوں کی ایک ترتیب وار قطار بنالیں گے، ایک وقت ِ مقررہ پہ ہی کھانا کھائیں گے، ایک مخصوص رنگ بالخصوص نیلے رنگ کے کپڑے پہننے پہ مصر ہوں گے۔ یہ اِس خاص ترتیب سے ہلکا سا بھی انحراف یا کوئی نئی تبدیلی اتنی جلدی قبول نہیں کرتے۔ اس طرح کے بچوں کو اکثر و پیشتر اونچی آوازوں، تیز روشنی، اور چھوا جانا بالکل پسند نہیں آتا۔ کھلونوں میں اکثر انہیں گول یا گھومنے والی چیزیں پسند آتی ہیں ۔ بعض بچوں میں مذکورہ بالہ علامات کے برعکس غیرمعمولی ارتکاز کرنے، یاد رکھنے، و دیگر صلاحتیں بھی پائی جاتی ہیں۔
آٹزم سپیکڑم عارضے کی حتمی وجوہات کا کوئی واضح تعین نہیں کیاگیا البتہ ماہرین صحت مختلف جینیاتی، ماحولیاتی اور حیاتیاتی عوامل کو اِس کی وجوہات میں شمار کرتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق جینیاتی عوامل کا امکان قریبا 60 سے 90 فیصد تک ہوتا ہے۔ ایک آٹسٹک بچے کے بہن بھایئوں میں بھی اِس عارضے کے ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ یہ عارضہ نسل در نسل سفر کرتا ہے۔ بعض دفعہ اگر والدین میں نہ بھی ہو تب بھی جینز کے امتزاج کی وجہ سے بچے میں ہونے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔ بڑی عمر کے والدین کی اولاد میں بھی اِس کا رسک ہوتا ہے۔ حمل کے دوران حاملہ خواتین کے ذہنی تناو ، مخصوص ادویات جیسے ویلپوریٹ لینا، اور نشہ آور اشیائ کے استعمال کی وجہ سے بھی پیدا ہونے والے بچے میں آٹزم سپیکٹرم عارضے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ایک ماہر نفسیات کی حیثیت سے آٹزم سپیکٹرم عارضے کے عالمی دن کے موقع پر میری چند گزارشات مندرجہ ذیل ہیں۔
آٹزم سپیکٹرم عارضے کا شکار یہ معصوم بچے پاگل نہیں ہوتے اور نا ہی اِن کو پاگل سمجھ کر کوئی امتیازی سلوک روا رکھنا چاہیئے۔ بس یہ سمجھ لیجئے کہ اِن کی ایک اپنی ہی الگ دنیا ہوتی ہے جس میں یہ مگن رہتے ہیں۔ کسی بھی عارضے کا کوئی مکمل علاج نہیں ہوتا البتہ علامات کی شدت کو کم کر کہ اِن کا طرز ِزندگی بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ ایک ماہر نفسیات کے ساتھ ساتھ ایک آکوپیشنل تھیراپسٹ اور سپیچ تھیراپسٹ مل کر ایسے متاثرہ بچوں کا طرز زندگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتے اور کررہے ہیں۔ پاکستان میں حال ہی میں قائم کردہ مریم نواز سکول اینڈ ریسورس سینٹر فار آٹزم اس بات کی روشن دلیل ہے کہ آٹزم سپیکٹرم عارضے سے نمٹنا بھی ہماری ترجیحات کا ایک حصہ ہے۔ اللہ سب کو صحت کاملہ عطا فرمائے۔ آمین



Leave a Reply