
(یہ مضمون خوشی کے عالمی دن کی مناسبت سے لکھا گیا ہے جو ہرسال 20 مارچ کو منایا جاتا ہے)
سن ۲۰۱۲ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسان کی ذہنی و جسمانی صحت کے لئے خوشی کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ہر سال 20 مارچ کو باقاعدہ خوشی کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا۔ یوں ۲۰۱۳ سے ہر سال یہ دن منایا جا رہا ہے۔ لیکن اگر ہم معاشرے پہ نظر ڈالیں تو ہر طرف ایک عجیب بے چینی و افراتفری کا سا عالم نظر آتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ دنیا بس ایک ریس ہے اور ہم سب ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں حسب مقدور حصہ لے رہے ہیں۔ دورِ جدید کے مشینی اور قدرے مصنوئی طرزِ زندگی کو مد نظر رکھتے ہوئے ساحر لدھیانوی کا یہ شعر عین مصداق نظر آتا ہے کہ
غم اور خوشی میں فرق نہ محسوس ہو جہاں
میں دل کو اس مقام پہ لاتا چلا گیا
کیا ہم واقعی اپنی زندگیوں میں خوش ہیں اور حقیقی خوشی کے مفہوم سے آگاہ ہیں یا بس دل بہلانے کے لئے خوشی کو اپنی مرضی کے معنی دینے کی عارضی کوشش کرتے ہیں؟ آیئے اِس اہم سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
خوشی انسان کے اندر پھوٹنے والے ایسے اندرونی جذبے ، کیفیت یا احساس کا نام ہے جس کے محرکات تو مختلف ہوسکتے ہیں مگر یہ اِس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کسی انسان کی خواہشات، اہداف و مقاصد کس حد تک پورے ہوئے ہیں اور اس نے اس تکمیل سے کتنا اطمینان حاصل کیا ہے۔ یہ ایک انفرادی جذبہ ہے جو پرسن ٹو پرسن مختلف ہوسکتا ہےیعنی یہ ضروری نہیں کہ جو امر کسی ایک انسان کے لئے خوشی کا باعث ہو وہ دوسرے کے لئے بھی ہو۔وقت اور ترجیحات کے ساتھ ایک انسان کے لئے خوشی کے مفہوم بدلتے بھی رہتے ہیں۔ جیسے ہم اپنے بچپن میں کھلونوں سے کھیل کر خوش ہوتے تھے اور اب زندگی کو بامقصد بنانا ہمیں خوشی دیتا ہے۔ یہ جاننا یقینا دلچسپی سے خالی امر نہ ہوگا کہ آخر یہ خوشی ہمیں محسوس کیسے ہوتی ہے یعنی ہمیں پتا کیسے چلتا ہے کہ آیا یہ خوشی کی بات ہے یا نہیں اور خوشی کی کتنی اقسام ہیں؟
ہمارا دماغ قدرت کی ہمارے اندر قائم کردہ ایک ایسی منظم ریاست ہے جہاں تقریبا 86 ارب نیوران انتہائی تن دہی سے اپنے فرائض کی ادایئگی میں مصروف رہتے ہیں۔ ان کے درمیان کھربوں درباری نما رابطہ کار (سائناپسز) ہیں جو ایک جگہ سے دوسری جگہ احکامات اور پیغامات ارسال کرتے ہیں۔ سینکڑوں نیوروٹرانسمیٹرز یا ہارمونز (مثلا ڈوپامین، اینڈورفنز، سیروٹونن اور آکسیٹوسن) بطور شاہی قاصد ہیں جو جذبات احساسات کو کیمیائی آہنگ میں لئے دوڑتے پھرتے ہیں۔ ایمیگڈالا ، ہپوکیمپس اور نیوکلیئس اکیومبنس جیسے دانشمند وزرائ ہیں جو جذبات، یاداشت اور انعامات کے فیصلے کرتے ہیں۔ گویا ایک طلسم ہوشربا ہے یا ایک جیتا جاگتا حیرت کدہ۔
جب ہمارا دماغ کوئی بھی تجربہ محسوس کرتا ہے تو یہ مذکورہ بالا عوامل کو بروئے کار لاتے ہوئے اس تجربے کے خوشگوار ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔مثلا آسان لفظوں میں جیسے کسی کو آم کھانے سے خوشی ملتی ہے تو اب دماغ کی کاری گری کچھ یوں ہوگی:
زبان پہ موجود ٹیسٹ بڈز کے ریسیپٹرز آم کے مالیکولز کو برقی سگنل میں تبدیل کرکہ نیوران و سایناپسز کے زریعے متعلقہ حصے یعنی گسٹٰیٹری کورٹیکس کو بھیجتے ہیں جو اس کے میٹھے ہونے کی تشخیص کرتا ہے۔ پھر دماغ کا تاریخ دان یعنی ہپوکیمپس پرانی یادوں کا رجسٹر کھنگال کہ بتاتا ہے کہ یہ پہلے بھی کھایا تھا اور اچھا لگا تھا۔ اب ایمیگڈالا یعنی وزیر برائے جذبات اِس پر مثبت اور خوشگوار ہونے کی مہر ثبت کردیتا ہے۔اس کے بعد پری فرنٹل کورٹیکس یعنی دماغ کا جج فیصلہ صادر کرتا ہے کہ یہ ہمارے لئے خوشی کا باعث ہے لہذا وینٹرل ٹیگمنٹل ایریا یعنی خوشی کے پاور ہاوس کو حکم دیا جاتا ہے کہ ڈوپامین یعنی خوشی کے ہارمون کو تیا ر کر کہ نیوکلیئس اکمبنز کی طرف روانہ کرو جو اس کے وصول ہونے پر خوشی، لذت، مزید خواہش کے احساسات پیدا کرتا ہے۔
نفسیات دانوں نے خوشی کی کئی اقسام بیان وضع کی ہیں ہم ان میں سے دو مشہور اقسام کا تذکرہ کریں گے جنہیں ہیڈونک (فوری لذت و راحت والی خوشی) اور یوڈیمونک (بامقصد، دیرپا خوشی) کہتے ہیں۔ ہیڈونک خوشی فوری لذت، سکون یا راحت کے احساس سے پیدا ہوتی ہے اور اس میں ڈوپامین اور اینڈورفنز ہارمونز پیدا ہوتے ہیں جن کا اثر دیر پا نہیں ہوتا۔۔ مثلا جیسے اگر کسی کا اچانک پرائز بانڈ میں لاکھوں کا انعام نکل آئے یا پسندیدہ کھانا سرو کیا جائے تو ایک دم ڈوپامین لیول بڑھے گا جس سے وقتی خوشی کا احساس پیدا ہوجائے گا۔ جب کہ یوڈیمونک (بامقصد، دیرپا خوشی) فوری لذت یا راحت کے بجائے زندگی کے اعلی مقاصد، کردار کی بلندی، حکمت عملی اور حقیقی خوشی کے حصول پہ توجہ دی جاتی ہے۔ اس میں سیروٹونن اور آکسیٹوسن پیدا ہوتے ہیں جن کا اثر دیرپا ہوتا ہے۔ اگر آپ حقیقی خوشی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو وہ یہی یوڈیمونک خوشی ہی ہوتی ہے۔
آپ نے اکثر شادی شدہ خواتین کو کی جانے والی یہ نصیحت سنی ہوگی کہ ’مرد کے ِدل کا راستہ اس کے معدے سے ہو کر گزرتا ہے۔’ یعنی لذیز کھانے کھلا کر مرد کا دل جیتا جاسکتا ہے۔ صنفی امتیاز سے بالاتر ہوکر دیکھا جائے تو یہ بات صحیح ہے کیونکہ کہ یوڈیمونک (با مقصد، دیر پا) خوشی میں پیدا پونے والا سیروٹونن ہارمون اصل میں 95 فیصد معدے اور آنتوں میں ہی بنتا ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خوشی کا تعلق صرف دولت، شہرت، طاقت و عہدے سے نہیں ہوتا ورنہ امیر ، مشہور لوگ اور بیوروکریٹس ڈپریشن اور سٹریس کی وجہ سے خودکشی نہ کرتے۔ دوسری طرف یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ غریب لوگ بہت خوش رہتے ہیں۔ بس ان کے پاس کچھ زیادہ کھونے کا ڈر نہیں ہوتا۔
خوشی کیسے حاصل کی جائے؟ خوش رہنے کے طریقے
خوشی کوئی ایسی شے نہیں جو باہر سے لا کر اچانک دل میں رکھ دی جائے بلکہ یہ ایک اندرونی کیفیت ہے جسے شعوری کوشش، درست سوچ اورمتوازن طرزِ زندگی کے ذریعے پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔ ذیل میں چند ایسے عملی طریقے بیان کیے جا رہے ہیں جو انسان کو حقیقی اوردیرپا خوشی کی طرف لے جا سکتے ہیں۔
شکرگزاری کی عادت اپنائیں
ہماری زندگی میں بے شمار نعمتیں موجود ہوتی ہیں لیکن ہم اکثر اُن پر توجہ دینے کے بجائے اپنی کمیوں پر نظر رکھتے ہیں۔ روزانہ چند لمحےنکال کر اُن چیزوں کے بارے میں سوچیں جن پر آپ شکر ادا کر سکتے ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ شکرگزاری انسان کے دماغ میں مثبت کیمیائی تبدیلیاں پیدا کرتی ہے اور سیروٹونن(خوشگوارکیمیکل) کی سطح کو بہتر بناتی ہے، جوخوشی اور سکون کا باعث بنتا ہے۔
موازنہ کرنے کی عادت ترک کریں
دوسروں سے خود کا موازنہ کرنا خوشی کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں ہم دوسروں کی زندگی کا صرف خوبصورت پہلو دیکھتے ہیں اور اپنی زندگی کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں۔ یاد رکھیں ہر انسان کا سفر حالات اور آزمائشیں مختلف ہوتی ہیں۔ اپنی زندگی پر فوکس کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔
بامقصد زندگی گزاریں
یوڈیمونک خوشی اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب انسان اپنی زندگی کو کسی بڑے مقصد سے جوڑتا ہے۔ چاہے وہ کسی کی مدد کرنا ہو، علم حاصل کرنا ہو یا اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانا – جب انسان اپنے وجود کو معنی دیتا ہے تو اندرونی اطمینان پیدا ہوتا ہے۔
مضبوط تعلقات بنائیں
انسان ایک سماجی مخلوق ہے اور اس کی خوشی کا بڑا حصہ اس کے تعلقات سے جڑا ہوتا ہے۔ خاندان، دوستوں اور قریبی لوگوں کے ساتھ وقت گزارنا آکسیٹوسن بارمون کو بڑھانا ہے جو محبت، اعتماد اور تعلق کے احساس کو مضبوط کرتاہے۔ تنهالى وقتى سكون تو دے سکتی ہے مگر مستقل خوشی نہیں۔
خود کو قبول کریں
اپنی خامیوں سمیت خود کو قبول کرنا ذہنی سکون کی بنیاد ہے۔ ہم اکثر ایک پر فیکٹ شخصیت بننے کی کوشش میں اپنی اصل شناخت کھو دیتے ہیں۔ یاد رکھیں آپ جیسے ہیں، ویسے ہی کافی ہیں۔بهتری کی کوشش کریں مگر ، خودسے نفرت نہ کریں۔
جسمانی صحت کا خیال رکھیں
دماغ اور جسم ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ایک صحت مند دماغ ایک صحت مند جسم کے اندر ہوتا ہے۔ باقاعده ورزش، متوازن غذا، مناسب نیند جیسے صحتمندانہ عوامل نہ صرف جسم کو بہتر بلکہ ذہن کو بھی ترو تازہ رکھتے ہیں۔ ورزش کے دوران اینڈورفنر خارج ہوتے ہیں جو قدرتی طور پر’’اچھا محسوس کروانے والے ہارمونز‘‘ کہلاتے ہیں۔
منفی سوچوں کو چیلنج کریں
اکثر ہماری ناخوشی کا سبب حالات نہیں بلکہ ہماری سوچ ہوتی ہے۔ سوچ کو تبدیل کرنا ایک مؤثر طریقہ ہے جس کے ذریعے ہم منفی خیالات کو پہچان کر انہیں مثبت اور حقیقت پسندانہ خیالات میں بدل سکتے ہیں۔
کیا ہر وقت خوش رہنا ضروری ہے؟
یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب اکثر لوگ غلط سمجھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر وقت خوش رہنا نہ ممکن ہے اور نہ ہی فطری۔ اداسی، غصہ، خوف – یہ سب انسانی جذبات ہیں اور ان کا ہونا ضروری ہے۔ اصل ذہنی صحت یہ ہے کہ ہم اپنے جذبات کو پہچانیں اور انہیں نہ صرف دبانے کے بجائے سمجھیں بلکہ مناسب طریقے سے ظاہر کریں۔ خوشی کا مطلب یہ بھی نہیں کہ دکھ نہ ہو، بلکہ یہ ہے کہ انسان دکھ کے باوجود جینا سیکھ لے۔
کب ماہر نفسیات سے رجوع کرنا ضروری ہے؟
اگر درج ذیل علامات طویل عرصے تک برقرار رہیں تو کسی ماہر نفسیات سے رجوع کرنا ضروری ہو جاتا ہے
مسلسل اداسی یا خالی پن کا احساس
کسی بھی چیز میں دلچسپی ختم ہو جانا
نیند یا بھوک میں شدید تبدیلی
بے چینی یا گھبراہٹ
خود کو نقصان پہنچانے کے خیالات
یاد رکھیں کہ مدد لینا باعث شرم نہیں بلکہ یہ شعور کی علامت ہے۔
اختتامی کلمات
خوشی کوئی منزل نہیں بلکہ ایک سفر ہے۔
یہ اُن لمحوں میں پروان چڑھتی ہے جب ہم خود کو، اپنے جذبات کو اور اپنی زندگی کو قبول کرنا سیکھ لیتے ہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ: خوشی باہر نہیں، ہمارے اندر ہی موجود ہے – بس ہمیں اسے پہچاننے اور سنوارنے کی ضرورت ہے۔




Leave a Reply